ھفتہ, 24 فروری 2024


ملک بھر کی صوبائی/وفاقی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز/ ریکٹرزسربراہوں کی تقرری پر پابندی ختم

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر کی صوبائی و وفاقی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز / ریکٹرز سربراہوں کی تقرری پر پابندی ختم کردی ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے صوبوں اور وفاق کے چانسلرز کو لکھے گئے مراسلے میں آگاہ کیا ہے کہ ان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین راجہ سکندر حیات کو ایک مراسلہ بھیجا گیا تھا جس میں ان سے وفاقی اور صوبائی چارٹرڈ جامعات کے وائس چانسلرز/ریکٹرز/سربراہوں کی تقرری پر پابندی سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی جسے چیئرمین الیکشن کمیشن نے منظور کرلیا ہے۔

چانسلرز کو لکھے گئے خط میں چیئرمین ڈاکٹر مختار نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن کی قیادت میں بروقت تقرری اور تسلسل کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہوئے اپنے مراسلے کے ذریعے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے تقرریوں پر پابندی سے استثنیٰ طلب کیا تھا۔ اس کے جواب میں، الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی طور پر چارٹرڈ جامعات کے وائس چانسلرز/ریکٹرز/سربراہوں کی تقرری پر پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

خط میں سرکاری جامعات کے چانسلرز سے کہا گیا ہے کہ نئے وائس چانسلرز/ریکٹرز/سربراہوں کی تقرری سرچ کمیٹی کے ذریعے کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے آپ کے دفتر سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات /انسٹیٹیوٹس کے سربراہوں کے تقرر کو آپ کی مدد کے تحت تیز/مکمل کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، یہ بھی درخواست کی جاتی ہے کہ آئندہ 06 مہینوں میں خالی ہونے والے وائس چانسلر/ ریکٹر/ سربراہ کے انتخاب کا عمل بھی شروع کیا جائے تاکہ اعلی تعلیم کے کام کو ہموار کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ سندھ میں لاء یونیورسٹی اور لیاری یونیورسٹی، طویل عرصے سے مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں اور شکار پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مدت مکمل ہونے والی ہے جب کہ آئندہ سال جنوری میں آئی بی کراچی کے سربراہ کی مدت مکمل ہورہی ہے اس کے علاوہ سندھ کی 27 سرکاری جامعات طویل عرصے سے مستقل ڈائریکٹر ز فنانس سے محروم ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment