جمعہ, 01 مارچ 2024


تھیلیسیمیا کی دوا سے متاثرہ بچوں میں خون بننے لگا

ایمز ٹی وی (ہیلتھ ڈیسک) : قومی ادارہ برائے امراض خون (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز) نے پہلی بار ایسی دوا پر تحقیق کامیابی سے مکمل کرلی جس کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے جسم میں خون بننے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ یہ تحقیق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں2002 میں شروع کی گئی تھی جو 2014 میں مکمل ہوئی یہ تحقیق ادارے کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میں ڈاکٹرثاقب انصاری نے کی جس میں انکشاف کیاگیا ہے، تھیلیسیمیاکے بچوں میں مذکورہ دواکے استعمال سے متاثرہ بچوں کے جسم میں خون بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اس وقت ملک میں 3ہزار سے زائد بچے اس نئی دوا کوکامیابی سے استعمال کررہے ہیں۔۔ ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میں ڈاکٹرثاقب انصاری کی تحقیق میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ ہائیڈروک سی یوریا Hydroxyurea دوا کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے جسم میں خون بننے کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا اس سے قبل تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو زندگی بچانے کیلیے ہر ماہ 2 بار انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا، تحقیق کے بعد نئی دوا ملک بھر میں3 ہزار تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں پر استعمال کی گئی۔ ماہرین طب نے قومی ادارہ برائے امراض خون (نیشنل انسٹیٹوٹ آف بلڈ ڈیزیز) میں کی جانے والی تحقیق کے فوائدکو بہت حوصلہ افزا قرار دیا ہے، واضح رہے کہ تھیلیسیمیا سے بچائوکا موثر پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے10ہزار بچے سالانہ یہ مرض لے کر پیدا ہورہے ہیں،یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تھیلیسیمیا سے بچائوکا قانون 2013 میں سندھ اسمبلی نے منظورکرلیاتھا جس پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے، ماہرین طب نے تشویش ظاہر کی ہے کہ موثر پالیسی کے تحت اس مرض کی روک تھام نہ کی گئی تو2020 تک مریضوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہوجائے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment