ھفتہ, 24 فروری 2024


جامعہ اردوشعبہ اردو کے تحت’’جشن خسرو‘‘ کےتحت ایک علمی ،ادبی وموسیقی کے پروگرام کااہتمام

کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کےشعبہ اردو کے تحت گلشن کیمپس کے سبزہ زار پر’’ جشن خسرو‘‘ کے تحت ایک علمی ، ادبی و موسیقی کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔

جشن خسرو کی مناسبت سے پروگرام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نادیہ نے انجام دئے۔ پروگرام میں ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے کہا کہ عصر حاضر میں کلام خسرو کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان و ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امیر خسرو کثیر اللسانیت، کثیر الثقافت ،کثیر المسالک اور کثیرالمذاہب فکرو نظریات کے حامی تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر کی انتہا پسندی ، جنونیت ، عدم رواداری اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پرامیر خسرو کے کلام و پیغام کی ترویج کی ضرورت ہے۔

پروگرام کا آغاز ’’ کلام خسرو اور عصر حاضر‘‘ کے تحت ایک پینل ڈسکشن سے کیا گیا جس میں ڈاکٹر عالیہ امام ، ڈاکٹر سلمان ثروت ، مشعل حسن ، انعام ندیم اور صائمہ نفیس نے بحیثیت شرکاء گفتگو میں حصہ لیا اور امیر خسرو کے فکر و فن اور کلام کے ادبی محاسن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

پینل ڈسکشن کو خوشبو رفیق نے ماڈریٹ کیا۔ ’’ کلام خسرو بزبان شاعر‘‘ کے تحت مختلف شعرائکرام و ادب دوست شخصیات نے تحت اللفظ میں امیر خسرو کا منتخب کلام پیش کیا جن میں ڈاکٹر رضوانہ جبیں ، تاجور شکیل ، یاسمین یاس ، عباس جوہر اور مجیب قریشی شامل تھے۔ ’’ کلام خسرو مع ساز و آواز‘‘ میں معروف قوال تاج محمد ، شاد محمد و ہمنوا نے شاز و آواز کا جادو جگاتے ہوئے حاضرین سے داد و تحسین وصول کئے۔ پروگرام کے اختتام پر صدر شعبہ ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے مہمانوں کو شیلڈ اور اجرک کے تحائف پیش کئے گئے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment