پیر, 27 مئی 2024


اقلیتی براد ری کے نام پر شراب خانے کھولے گئے۔


ایمز ٹی وی(کراچی) سندھ ہائی کورٹ نے شراب خانوں پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کر دی ۔

سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں قائم بینچ نے سندھ میں شراب خانو ں پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت کی ، عدالت نے حکومتی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سماعت 9دسمبر تک ملتوی کر دی ۔


سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کی موجودہ حکومت نے شراب خانو ں کو لائسنس جاری نہیں کے اور سپریم کورٹ کے حکم پر شراب خانون کی اجازت دی گئی تاہم 15روز میں غیر مسلم نمائندوں کو بلا کر مشاورت ہو گی جس پر چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سیکشن سترہ شراب کی کھلے عام فروخت کی اجازت نہیں دیتی، سپریم کورٹ کے حکم کا شیلٹر لینے کی کوشش نہ کریں ۔”کھلے عام شراب کی فروخت جاری ہے مگر سندھ حکومت سو رہی ہے “۔سپریم کورٹ کی گائیڈلائن پر کیس کا فیصلہ کریں گے ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ حدود آرڈیننس کی روشنی میں لائسنس کا نیا قانون کب بنے گا ؟”نیا قانون نہ بنا تو چیف سیکرٹری کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے “۔حکومت لائسنس پر پیسہ کما رہی ہے تو حساب بھی دینا ہو گا ۔اقلیتی براد ری کے نام پر شراب خانے کھولے گئے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ شراب کے لائسنس سے متعلق قانون سازی سے آگاہ کیا جائے ۔اقلیت عدالت میں کہہ رہی ہے وہ شراب نہیں پیتے تو مسلمانوں کو شراب بیچنے والوں کے خلا ف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟عدالت نے حکم دیا کہ دیگر صوبوں میں شراب کی فروخت پر بھی رہنمائی کی جائے ۔


درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شراب مسلمانوں کو بھی فروخت کی جاتی ہے اورگردواروں باہر بھی ملتی ہے جبکہ اب تو ہوم ڈلیوری بھی ملنے لگی ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment