ھفتہ, 13 جولائی 2024


ماہرین صحت نے چاکلیٹ کوکھانسی میں مؤثر ترین دوا قرار دے دیا

ایمز ٹی وی (فارن ڈیسک)برطانیہ میں کی جانے والی تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف ہل میں دل اور سانس کی بیماریوں کے شعبہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کھانسی میں چاکلیٹ کھانے سے کھانسی جاتی رہتی ہے اور وہ کھانسی پر کئی سال کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور ان کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ میں کھانسی کا سب سے زیادہ مؤثر سمجھا جانے والے سیرپ میں کوکا شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جو مریض کھانسی کے دوران ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جن میں چاکلیٹ موجود ہوتی ہے وہ اس بیماری سے تیزی سے اور اکثر اوقات تو صرف دو دن میں چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔ تحقیق کے دوران 163 مریضوں کا جائزہ لیا گیا اور اس کے نئائج حیرت انگیز تھے تاہم ان نتائج کو آئندہ سال پیش کیا جائے گا۔ چاکلیٹ سے متعلق ایمپریل کالج آف لندن میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کوکا میں پائی جانے والی تھیوبرومائن ایسا عنصر ہے جو کھانسی کو فوری طور پر کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے اور اکثر کھانسی کی ادویات میں اسے دیگر اجزا کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کھانسی کی نئی ادویات میں چاکلیٹ کی بڑی مقدار موجود ہے اور لوگوں میں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں اور صرف 2 دن میں کھانسی سے نجات مل جاتی ہے، یہ ادویات انسانی دماغ کی رگوں گلے تک آتی ہیں اور انہیں محفوظ بناتی ہیں تاہم گرم چاکلیٹ کو پینے سے اس کے مؤثر ہونے میں کمی آجاتی ہے کیوں کہ یہ مرکب گلے کی شریانوں پر ٹچ نہیں ہوتا۔ محققین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کو کھانسی کے دوران رفتہ رفتہ کھانے سے بھی فرق پڑتا ہے تاہم چاکلیٹ دیگر اجزا کے ساتھ مل کر مزید مؤثر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ سوچ اب پرانی ہو چکی کہ کھانسی خشک یا گیلی یا پھر کسی اور قسم کی ہوتی ہے بلکہ کھانسی کی ایک ہی قسم ہے اور یہ کھانسی سانس کی اوپری نالیوں کے متاثر ہونے سے جنم لیتی ہے اور اس کے ساتھ فلو اور نزلہ بھی ہوجاتا ہے جب کہ انفیکشن کے لحاظ سے خشک یا گیلی کھانسی میں کوئی فرق نہیں اور دونوں ہی بلگم خارج کرتی ہے۔ چاکلیٹ سے بنی ادویات ہر طرح کی کھانسی میں مؤثر اور مفید ہوتی ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment