منگل, 05 مارچ 2024


اعلیٰ تعلیم اورپوری لگن سےسیکھاگیاہنرہمارےدماغ کوبھی مضبوط بناتےہیں،تحقیق

اوٹاوا: کینیڈین سائنسدانوں نے دریافت کیا ہےکہ اعلیٰ تعلیم کےساتھ ساتھ کسی زبان پرخصوصی مہارت حاصل کرنےوالےافراد کےلیے ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہ نئی تحقیق یونیورسٹی آف واٹرلُو، کینیڈا میں پروفیسر ڈاکٹر سوزین ٹیاس کی قیادت میں کی گئی ہے جس میں ’’نن اسٹڈی‘‘ (Nun study) کہلانے والے ایک طویل اور وسیع مطالعے سے حاصل شدہ معلومات سے استفادہ کیا گیا، جس کا آغاز 1986 میں ہوا تھا۔

اس تحقیقی مطالعے میں ’’اسکول سسٹرز آف نوٹرے ڈیم‘‘ کی 678 خواتین راہبائیں (nuns) بطور رضاکار شریک تھیں جن کی عمریں (مطالعے کے آغاز پر) کم از کم 75 سال تھیں۔ (2017 تک ان میں سے صرف تین سسٹرز ہی زندہ رہ گئی تھیں۔)

ڈاکٹر سوزین اور ان کے ساتھیوں نے ’’نن اسٹڈی‘‘ میں شریک، ایسی 472 سسٹرز کی طبّی معلومات کا جائزہ لیا کہ جن میں ڈیمنشیا سے پہلے کی علامت ’’ایم سی آئی‘‘ (MCI) ظاہر ہوچکی تھی، یعنی ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگی تھی

ریسرچ جرنل ’’نیورولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح معنوں میں حاصل کی گئی اعلیٰ تعلیم اور پوری لگن سے سیکھا گیا ہنر نہ صرف مادّی طور پر ہمارے لیے بہتر ہیں بلکہ یہ ہمارے دماغ کو بھی مضبوط بناتے ہیں اور کئی نفسیاتی و ذہنی بیماریوں سے بھی بچاتے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے سال اسی طرح کی ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ جو لوگ کم عمری سے تعلیم حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں اور بڑے ہو کر پیچیدہ مہارت والے پیشے اختیار کرتے ہیں، انہیں ڈیمنشیا کا خطرہ دوسروں کی نسبت کم ہوتا ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment