منگل, 05 مارچ 2024


اب روبوٹ عدالتی مقدمات کا فیصلہ کریں گے

ایمز ٹی وی (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی) ٹیکنالوجی کی بدولت سائنس داں روبوٹوں میں انسانوں جیسی ذہنی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روبوٹ چہرے سے جذبات کا اظہار کرنے، مہمانوں کو خوش آمدید کہنے، اور جزوی طور پر انسانوں سے بات چیت کرنے کے قابل ہوچکے ہیں۔ انھیں انسانوں جیسی یہ صلاحیتیں عطا کرنے میں مصنوعی ذہانت کا کردار کلیدی ہے۔ سائنس داں اس ٹیکنالوجی سے کام لیتے ہوئے خودکار مشینوں کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس ضمن میں پیش رفت کرتے ہوئے انھوں نے ایک ایسا نظام یا الگورتھم تیار کرلیا ہے جو عدالتی مقدمات کے فیصلے کرسکتا ہے۔ ماہرین روبوٹ میں اس الگورتھم کے تجربات بھی کرچکے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مستقبل میں روبوٹ وکیل اور جج کے فرائض بھی ادا کرسکتے ہیں۔ خودکار مشینوں میں قانونی فیصلے کرنے کی صلاحیت یونیورسٹی کالج لندن، شیفلڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین پر مشتمل ٹیم نے پیدا کی ہے۔ محققین کا دعویٰ ہے کہ ان کا تیارکردہ الگورتھم انسانی حقوق سے متعلق مقدمات کے فیصلوں کی اسّی فیصد تک درست پیش گوئی کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ الگورتھم بین الاقوامی عدالتوںکو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ الگورتھم کی تخلیق کے دوران اس امر کو پیش نظر رکھا گیا کہ یہ جاری مقدمات کی تفصیلات پڑھ فیصلوں کا قبل از وقت اندازہ کرسکے۔ مگر فیصلوں کی پیش گوئی میں الگورتھم عالمی قوانین کے ساتھ ساتھ غیرقانونی حقائق کو بھی مد نظر رکھتا ہے، اور یہ خاصیت مصنوعی ذہانت کی رہین منت ہے۔

دوران تحقیق محققین نے کئی عدالتوں کے مقدمات کی عام دستیاب دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس دوران انھیں پتا چلا کہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کا بیشتر انحصار براہ راست قانونی دلائل سے زیادہ دوسرے اور متعلق حقائق پر تھا۔ اس ’ دریافت‘ سے ظاہر ہوتا تھا کہ مذکورہ عدالت کے جج قانونی دنیا میں رائج اصطلاحات کے مطابق روایت پسند کے بجائے حقیقت پسند ہیں۔ محققین کا یہ تجزیہ، قبل ازیں دیگر اہم اعلیٰ ترین عدالتوں بشمول امریکی سپریم کورٹ میں فیصلہ سازی کے عمل پر ہونے والے تحقیقی مطالعات کے نتائج کو تقویت دے رہا تھا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment