جمعرات, 25 جولائی 2024
×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 46


معروف ادیب اشفاق احمد کو بچھڑے 11برس بیت گئے!

ایمز ٹی وی (انٹرٹینمینٹ)ادب میں اپنی مثال آپ خیال کئے جانے والے اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے نو برس بیت گئے لیکن اپنی ادبی تصانیف کے باعث آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں ۔ افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور نثر نگار اشفاق احمد22 اگست 1925 کو لاہور میں پیدا ہوئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا ، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبل یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومہ کیے نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ ۔انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی ۔ وہ 1967 میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ 80 کی دہائی میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی رہے ۔انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے ۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا ۔ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں ۔ کھیل کہانی ، ایک محبت سو ڈرامے اور طوطا کہانی ان کی نمایاں تصانیف ہیں، 1965 سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے شروع کیا جو اپنے مخصوص طنز مزاح اور گفتگو کے باعث مقبولہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا ۔ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے ۔افسوس اشفاق احمد 7 ستمبر 2004 کو اس جہاں فانی کو چھوڑ گئے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment