اتوار, 14 اگست 2022


دھمکی آمیز بیانات

ایمز ٹی وی (گلگت بلتستان) گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیاتو مشرقی پا کستان اور بلوچستان جیسے حالات سامنے آسکتے ہیں گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا کو ئی بھی ٹیکس لا گو نہیں کیا جا سکتا ہے ، یہ خود آئین پا کستان کہتا ہے اگر ہم کہتے تو یہ بات غلط ہو تی لیکن گلگت بلتستان کو خود پا کستان کے حکمران متنا زعہ قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی بنیا دی حقوق بھی نہیں دینا انتہا ئی زیا دتی ہے اس سے مشرقی پا کستان اور بلوچستان جیسے حالات سامنے آسکتے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار جسٹس (ر) سید جعفر شاہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین اور کمیٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر تے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یہ حق نہیں ہے کہ ہم صدر پاکستان کو وو ٹ کر سکیں اور ہم پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکتے ہیں۔ آج تک پاکستان میں بیور وکریسی میں بھی جی بی کو نظر انداز کیا گیا۔ لیکن نو کریوں میں بھی پاکستان سے افراد کو لایا جا رہا ہے جس سے گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے افراد کے ساتھ زیادتی ہے۔ جموں کشمیر کے لوگ انڈیا کے قومی اسمبلی کے ممبر بن سکتے ہیں لیکن وہ جموں کشمیر میں کو ئی حکومت نہیں کر سکتے ہیں اگر گلگت بلتستان متنا زعہ ہے تو اس کو متنا زعہ طر یقہ سے ٹریٹ کیا جا یا نہ کہ سو تیلی ماں کی طر ح۔اس طر ح آج نہیں تو کل عوام میں بغاوت پھیلے گی۔ اس دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ ہم اپنے قانون دان اور سینئر افراد کی رہنما ئی میں عوامی مقدمہ لڑ نا چا ہتے ہیں اور ہمارے تمام ڈیما نڈ قانونی ہے اور اگر غیر قانونی ہو تے تو ہم ان مطا لبات کے حصو ل کے لیئے کبھی بھی میدان میں نہیں آتے لیکن حکمران طبقہ ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھ رہا ہے اس بار صر ف ضلع گلگت کی سطح پہ احتجاج کیا گیا ہے عنقر یب اس قسم کے پرو گرا مات پورے اضلاع میں ہو نگے اور عوام کو ان کے حقوق کے حوالے سے شعور دیا جا ئے گا اور عوام خود اس بار اپنے حقوق عوام خود میدان میں آئینگے۔ -

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment