اتوار, 14 اگست 2022


گلگت شہر اور بجلی کا مسئلہ

ایمز ٹی وی (گلگت بلتستان) وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ نئی پاور پالیسی بنائی جارہی ہے جو مستقبل کی ضروریات کا احاطہ کرے گی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج سے نلتر کے متاثرہ پاور ہاوس سے بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے گی ،ابتدائی مرحلے میں 14 سے 18گھنٹے شہر کو بجلی فراہم کی جائیگی۔ وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری برقیات کو ہدایت کی ہے کہ بلاتفریق تمام سپیشل لائنوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ بجلی بلوں کا حصول یقینی بنایا جائے، بجلی بلوں کے نادہندگان کے کیسز ایف آ ئی اے کو بھیجے جائیں۔ انہوں نے بلا تاخیرگلگت شہرمیں پاورکنزروشن کمیٹیا ں بنانے کی ہدایت کی، شہر میں بجلی کا نظام بہتر بنانے کے لیے انہوں نے ایک پالیسی بھی دی جس کے تحت جن محلوں سے 70 فیصد بل وصول ہو رہے ہیں ان کے ٹرانسفارمرز خراب ہونے کی صورت میں 6 گھنٹے میں متبادل ٹرانسفارمر فراہم کیا جائے گا۔ اس کے بر عکس جن محلات سے بلوں کی وصولی نہیں ہوتی ان کے ٹرانسفارمز کے مرمت کی ذمہ داری محلے والوں کی ہوگی۔ شہر میں بجلی کے ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 12 نئے فیڈرز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے محکمہ برقیات کے شکایات سیل کو فعال بنانے اور ٹیلیفون نمبرز کو مختلف مقامات پر آویزاں کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ حفیظ الرحمن نے حالیہ بارشوں کے بعد گلگت شہر کو بجلی کی فراہمی کے تعطل پر عوام سے معذر ت کی اور کہا کہ ماضی کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئندہ گلگت شہر میں بلیک آوٹ نہیں ہوگا متبادل ذریعہ سے بجلی فراہمی کے لیے اضافی تھرمل جنریٹرز خریدے جارہے ہیں - .

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment