منگل, 19 جنوری 2021


جامعات کی چارٹر کیلئے گائیڈ لائن کی منظوری

ایمز ٹی وی(تعلیم/کراچی) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے بھر کی سرکاری اور نجی جامعات و انسٹی ٹیوٹس کی سنڈیکیٹ، سینیٹ، بورڈز آف گورنرز اور دیگر باڈیز میں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندگی ختم کرکے سندھ ایچ ای سی کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے، تاہم حتمی منظوری وزیر اعلیٰ سندھ دیں گے جس کے بعد سندھ کی سرکاری و نجی جامعات اور انسٹیٹیوٹس سے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندگی مکمل طور پر ختم ہوجائے گی اور اس کی جگہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن سنبھال لے گا۔ اس بات کی منظوری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اجلاس میں دی گئی جو تقریباً دو سال بعد منعقد کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی عدم دستیابی کے باعث اجلاس کی صدارت سئنئر رکن جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ نے کی۔ اجلاس میں چارٹر انسپیکشن کمیٹی کے سربراہ قدیر راجپوت، ڈی جی کالجز ڈاکٹر ناصر انصار، نادرہ پنچوانی، حنید لاکھانی، سیکریٹری آئی ٹی، ڈپٹی سیکریٹری فنانس، سیکریٹری کالج ایجوکیشن ڈاکٹر ریاض میمن اور سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نوید شیخ نے شرکت کی۔ اجلاس میں فنانس، ایکریڈیشن اور بھرتی کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی۔ جس کے تحت سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کوئی بھی نئی اسامی قائم کرسکتا ہے اور کسی بھی اسامی کو ختم کرسکتا ہے۔ اجلاس میں جامعات کی چارٹر کیلئے گائیڈ لائن کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت پرائیوٹ جامعہ کے رکن کو بھی کمیشن میں شامل کیا گیا، اسی طرح اراکین کی تعداد 4 سے بڑھاکر 5 ہوگئی۔ ساتھ یہ بھی طے کیا گیا کہ اگر کسی نجی ادارے نے قواعد کی خلاف ورزی کی تو سندھ ایچ ای سی چارٹر ایکشن کمیٹی کے ذریعے اس کا تعلیمی سال روک سکے گی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ چارٹر ایکشن کمیٹی کے قیام اور اراکین کے نام کا تعین اب محکمہ تعلیم کے بجائے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کرے گا۔ چارٹر انسپیکشن کمیٹی کے سربراہ قدیر راجپوت نے کہا ہے کہ اجلاس کے منٹس منظوری کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس جائیں گے جہاں سے منظوری کے بعد تمام فیصلوں پر عمل شروع کردیا جائے گا

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment