جمعہ, 04 دسمبر 2020

 

ایمز ٹی وی(تعلیم/خیرپور) تعلیمی ایمرجنسی پر عمل درآمد کرانے کے لیے خیرپور میں نئے مقرر چیف مانیٹرنگ ایجو کیشن آفیسر ریاض حسین وسان نے اچانک اسکولوں کا دورہ کیا اسکولوں کے اچانک دورے کے دوران 70فیصد طلبہ اور بڑی تعداد میں اساتذہ کو غیر حاضر دیکھ کر ریاض حسین وسان نے سخت تشویش اور برہمی کا اظہار کیا انہوں نے اسکولوں کی انتظامیہ کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسکولوں میں 70فیصد طلبہ اور بڑی تعداد میں اساتذہ کو غیر حاضر دیکھ کر ان کو بڑا افسوس ہوا انہوں نے کہاکہ جلد طلبہ کے والدین اساتذہ تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس بلا کر طلبہ اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہاکہ تعلیمی ایمر جنسی کا نفاذ سندھ میں تعلیمی معیار کو بہتر کر نے کا بہتر قدم ہے انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی غیر حاضری کو ختم کرنے کے لیے مضبوط میکنزم کے تحت کامیاب حکمت عملی ترتیب دی جائے گی چیف مانیٹرنگ ایجوکیشن آفیسر ریاض حسین وسان نے جن اسکولوں کا اچانک دورہ کیا ان میں گورنمنٹ سیٹ تھریزاز ہائی اسکو ل،گورنمنٹ کمپری ہنسیو ہائی اسکول ،گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری اسکول اور دیگراسکول شامل تھے اسکولوں کے دورے کے دوران چیف مانیٹرنگ آفیسر کو بتایا گیا کہ ناز پائلٹ سکینڈری اسکول میں 2014ء سے ہیڈ ماسٹر کا تقرر نہیں کیا جا سکا جس کے باعث اسکول کے انتظامی امور میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے جس پر ریاض حسین وسان نے کہاکہ وہ سندھ کے سیکریٹری تعلیم کو اس معاملے کی آگاہی دیں گے۔

 

 

ایمز ٹی وی (تعلیم / کراچی )کمانڈنٹ پاکستان میرین اکیڈمی (پی۔ایم۔اے)کموڈور اکبر نقی نے شہید ذوالفقارعلی بھٹو یونیورسٹی آف لاءکا دورہ کیا۔
کمانڈنٹ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء(جامعہ قانون)کے وائس چانسلرجسٹس (ر)قاضی خالد علی و سابق وزیرِ تعلیم صوبہِ سندھ سے ملاقات کی۔

ملاقات میں (جامعہ قانون) اور پاکستان میرین اکیڈمی کے مابین تعلیم کے شعبے میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ ِ خیال ہوا۔ بانی وائس چانسلر نے کمانڈنٹ کوپاکستا ن کی پہلی لاء یونیورسٹی کے پروگراموں کے بارے میں مفصل بریفنگ دی اور (جامعہ ِقانون) میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ کموڈر اکبر نقی کو یونیورسٹی کے مستقبل کے اہداف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

 

ایمز ٹی وی(لاہور) لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے مبینہ ذہنی معذور قیدی خضر حیات کے ڈیتھ وارنٹ معطل کردیئے ہیں ۔

خضر حیات کو 17جنوری کو پھانسی دی جانا تھی ۔فاضل بنچ نے یہ عبوری حکم امتناعی خضرحیات کی والدہ اقبال بانو کی درخواست پر جاری کئے ،عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجابکو آئندہ تاریخ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے


،یہ درخواست پہلے سے زیر سماعت ہے جس میں ہوم سیکرٹری سے جواب طلب کیا گیا تھا جو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ،اس پرعدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی ادارے کی سستی کی سزا کسی قیدی کو نہیں دے سکتے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ قیدی خضر حیات کیمپ جیل میں رہ کر پاگل ہوچکا ہے اور قیدی کے معائنے اور میڈیکل بورڈ کی درخواست ہائیکورٹ میں زیر التواءہے لیکن قیدی کے پاگل ہونے کا معاملہ حل ہونے سے قبل ہی اس کے 17 جنوری کو پھانسی دینے کے لئے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔


درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حضر حیات کے شیزوفرینیا اور نفسیاتی مریض ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں، لہذا قیدی کے 17 جنوری کے ڈیتھ وارنٹس معطل کرنے کا حکم دیا جائے اور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق قیدی کے میڈیکل بورڈ سے معائنے کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے۔ واضح رہے کہ سابق کانسٹیبل خضر حیات کو ساتھی اہلکار کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا جاچکا ہے ،اس کی تمام اپیلیں خارج ہونے کی بنا پر اس کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کردیئے گئے جنہیں اب عدالت عالیہ نے معطل کردیا ہے

 

ایمز ٹی وی(لاہور) لاہور کے 8سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی عدالتی طلبی کے باوجود عدم پیشی کے باعث لڑائی جھگڑے میں مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56مقدمات التواءکا شکار ہیں۔

ماڈل ٹاﺅن کچہری کے 10جوڈیشل مجسٹریٹس نے نے اس ضمن میں رپورٹس تیار کر کے سیشن جج لاہور نذیر احمد گجانہ کو بھجوا دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق یہ مقدمات 2013ءتک لاہور کے مختلف تھانوں میں درج کئے گئے ،ماڈل ٹاﺅن کچہری میں 10جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میںپنجاب کارڈیالوجی کے ایم ایس، میاں منشی ہسپتال کے ایم ایس محمد امیر، میڈیکل آفیسرز سہیل، سعید، نعمان غوری اور شہباز احمد عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے،اسی طرح جنرل ہسپتال چیف میڈیکل آفیسر رحم اور شیراز سمیت 11 میڈیکل آفیسرز جن میں عالم، حنا شفقت، زاہد منظور، عمر، اشفاق، ذیشان، ذوالقرنین حیدر، ناہید وقاص، ثاقب ندیم اور ہمایوں شامل ہیں جو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہے، گنگا رام ہسپتال کے 3ڈاکٹرز عظمت، عاصم فاروق اور کشمیری احمد بھی بطور گواہ ماڈل ٹاﺅن کچہری میں پیش نہیں ہو رہے،

اسی طرح سروسز ہسپتال کے 9 ڈاکٹرز جن میں ڈاکٹر مشتاق احمد، امتیاز احمد، اعجاز احمد، محمد عامر، غلام مرتضی، مبارک احمد، زاہد احمد خان، کنول اور علی مہدی شامل ہیں جو زیر التوا مقدمات میں گواہی کے لئے پیش نہیں ہو رہے، جناح ہسپتال کے 7ڈاکٹرز بھی عدالتی حکم پر مقدمات میں بیان ریکارڈ کروانے نہیں آ رہے جن میں چیف میڈیکل آفیسرز عبدالستار اور مزمل حسین بھٹی جبکہ میڈیکل آفیسرز میں زاہد منظور، حامد سعید، گلزار احمد، غلام غازی اور افتخار احمد شامل ہیں جبکہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ڈاکٹر محسن جواد بھی بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، میو ہسپتال کے ڈاکٹر فاروق حسن اور شہباز بھی عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہے، لاہور کے 8سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی عدم پیشی کے باعث لڑائی جھگڑے میں مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56مقدمات مڈل ٹاون کچہری میں مسلسل التوا کا شکار ہیں ۔

 

 

ایمز ٹی وی(صحت) یوٹیلیٹی اسٹورزمیں فروخت ہونےوالا یوٹیلیٹی برانڈ کا آئل اورگھی غیرمعیاری نکلا۔یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور وزارت صنعت و پیداوار نے اس بات کا سپریم کورٹ کے سامنے اعتراف کرلیا۔

عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی تمام اشیاء کے معیار سے متعلق رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے اس سوال کا جواب بھی مانگا ہے کہ ٹیٹرا پیک دودھ کے ڈبے کی اندرونی تہہ کے انسانی صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کھانے پینے کی اشیاء سے عوام کی صحت اور بچوں کا مستقبل وابستہ ہے، غذا ٹھیک نہیں ملے گی تو صحت خراب ہو گی۔عدالت کو بتایا گیا کہ آئل اور گھی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے، آئندہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر صرف اعلیٰ معیار کے برانڈز کا کوکنگ آئل اور گھی فروحت ہو گا۔

 

ایمز ٹی وی(لاہور) لاہور ہائیکورٹ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورسمیت پنجاب کی 7یونیورسٹیوں کے مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کو عبوری قرار دینے سے متعلق اپنافیصلہ واپس لیتے ہوئے انہیںمستقل وائس چانسلر ز کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے دی

۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت پنجاب کے وکیل کے دلائل سے ابہام پیدا ہوا،ابہام دور ہونے پر فیصلہ واپس لے رہے ہیں۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حکومت پنجاب کی اپیل پر سماعت شروع کی توایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے فاضل جج کو آگاہ کیا کہ عدالت کے روبرو پنجاب یونیورسٹی سمیت صوبے کی 4یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو عہدوں سے ہٹانے کا معاملہ زیر سماعت تھا مگر عدالت نے سات دیگر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرریوں کو بھی عبوری قرار دے کر اپنے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا تھا،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی ،لاہور کالج وویمن یونیورسٹی،سرگودھا یونیورسٹی اور نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلرز کوایچ ای سی کی گائیڈ لائن کے مطابق قائم سرچ کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں تعینات کیا گیا،عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت پنجاب کے وکیل کے دلائل سے ابہام پیدا ہوا،ابہام دور ہونے پر فیصلہ واپس لے رہے ہیں،عدالت نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی راولپنڈی،بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان،خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان،غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان،یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اور صادق یونیورسٹی فار وویمن بہاولپورکے وائس چانسلرز کو مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔عدالت نے سرچ کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی کے طریقہ کار کی قانونی حیثیت سے متعلق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔عدالت نے دوران سماعت مزیدریمارکس دیئے کہ پی ایچ ڈی امیدواروں کے انتخاب کے لئے قائم سرچ کمیٹیوں کے ممبران کی اہلیت کا جانچا جانا ضروری ہے، وائس چانسلرز کی تعیناتیوں میں شفافیت قانونی تقاضا ہے،منتخب امیدواروں کی فہرست کو سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

 

ایمزٹی وی(تعلیم)آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں ٹرک بےقابو ہوکر اسکول میں جاگھا،حادثے میں چوتھی جماعت کی دو بچیاں اور ٹیچر جاں بحق جبکہ9بچیاں اور ایک ٹیچر زخمی ہوئی ہیں ،ٹرک ڈرائیور کو گرفتار کرلیاگیا ہے ۔

ضلع باغ کے نواحی علاقے بیر پانی میں ہونے والے واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پہنچ گئیں ۔لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیاگیا ہے جہاں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سردی کی وجہ سے کلاسز کمرے سے باہر لگائی گئیں تھیں ۔ٹرک کے ڈرائیور کو گرفتار کر کے تھانا باغ منتقل کردیاگیا ہے ،واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں ۔

 

 

 


ایمز ٹی وی(کراچی) بے نظیر بھٹو قتل کیس میں اہم پیش رفت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ایوب مارتہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔


جج نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 16 جنوری کو طلب کر رکھا تھا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو مقدمے کے آخری گواہ کے طور پر طلب کیا گیا تھا بینظر بھٹو کے قتل کا مقدمہ اپنے آخری مراحل میں ہے مقدمے کا فیصلہ اسی ماہ سنایا جانے کا امکان تھا۔

 

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد) نصاب تعلیم میں جمہوریت اور آمریت سے متعلق مضمون کی نشاندہی کے بعد محکمہ تعلیم سندھ نے نصاب تعلیم میں ترامیم کر دیں اور عبدالستار ایدھی کا مضمون بھی نصاب میں شامل کر لیا گیا ۔

سندھ حکومت نے دسویں جماعت کے علم شہریت کے نصاب میں تبدیلی کر دی ہے ۔ بیورو آف کیریکولم کے اجلاس میں وزیرتعلیم جام مہتاب ڈھرنے آمریت کا سبق پڑھ کر سنایا اور کہا کہ طلبہ سالوں سے ’’ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے ‘‘ پڑھ رہے تھے، کتاب میں لکھا ہے کہ جمہوری حکمران نکمے ہوتے ہیں، اس مضمون کو حذف کر دیا گیا ہے۔

وزارت تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ اسلامیات کی کتاب میں احادیث کے حوالے بھی مضامین شامل کئے گئے ہیں۔

 


ایمز ٹی وی(سٹاک ہوم)  عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی بنیاد لوگوں کے سیاسی نظریات اور سماجی رجحانات ہی ہوتے ہیں لیکن سویڈن کے سائنسدانوں نے لوگوں کی خوبصورتی اور سیاسی میلان کا تعلق بھی ڈھونڈ نکالاہے۔


سویڈن کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل اکنامس کی ایک بین الاقوامی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ لوگوں کے سیاسی نظریات اور ان کی دلکشی میں کیا تعلق ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ خوش شکل لوگ عموماً زندگی میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں، دولت بھی زیادہ کماتے ہیں اور عموماً بائیں بازو کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، مثلاً نئے ترقیاتی ٹیکس یا غرباءکے لئے ویلفیئر پروگرام وغیرہ میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس سوچ کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خوبصورت لوگ عموماً روایتی سوچ رکھنے والی دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب مائل ہوتے ہیں۔


سائنسی جریدے پبلک اکنامکس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں تحقیق کارنکلاس برگرن کہتے ہیں کہ یورپ ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں دائیں بازو کے سیاستدانوں کو بھی زیادہ دلکش خیال کیا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ خوش شکل لوگ عام طور پر دائیں بازو کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ بائیں بازو کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں لہٰذا ان جماعتوں میں کم ہی نظر آتے ہیں