جمعہ, 04 دسمبر 2020

 

ایمز ٹی وی(کراچی) سندھ میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی زبوں حالی، خوردبرد اور بدعنوانی کی تحقیقات سے متعلق عدالتی کمیشن نے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ زہریلے اور غیر زہریلے صنعتی فضلے کا اخراج کرنے والے صنعتی یونٹس کا 4یوم میں سروے کرکے رپورٹ پیش کریں۔


گزشتہ روز کو ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والے انکوائری کمیشن کی سماعت کی،کمیشن کو بتایا گیا کہ فیکٹریوں سے نکلنے والا مائع زہریلے اور غیر زہریلے کی تخصیص کے بغیر لیاری و ملیر ندی میں ڈالا جارہا ہے جو سمندر میں جارہا ہے۔


دوران سماعت سیکریٹری جنرل نارتھ کراچی ایسوسی ایشن مرزا محمد حسنین کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا میں مختلف نوعیت کے 2200یونٹس قائم ہیں جن کا فضلہ ایک زیڈ ایم کارپوریشن کے توسط سے ایک کنٹریکٹ کے تحت ہٹایا جارہا ہے تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ فیکٹریوں کا زہریلا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے واٹر بورڈ کے نظام کے تحت لیاری ندی میں پھینکا جارہا ہے،20سال قبل گبول ٹاؤن میں ایک ٹریٹمنٹ پلان نصب کیا گیا جو کہ غیرفعال ہے۔


اس موقع پر سی ای او آف فیڈرل بی ایریا انڈسٹریل ایسوسی ایشن رحمن ذیشان نے کمیشن کو بتایا کہ ان کے صنعتی ایریا میں300یونٹس قائم ہیں جن کا فضلہ ایک کنٹریکٹر کے ذریعے ہٹایا جارہا ہے،انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ فیکٹریوں کا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے واٹر بورڈ کے پائپ کے ذریعے لیاری ندی میں ڈالا جارہا ہے،دوران سماعت ادارہ ماحولیات کے ڈائریکٹر وقار حسین نے کہا کہ ان صنعتوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا جن میں مضرصحت اقدامات کرنے والی اور ٹریٹمنٹ پلان رکھنے والی فیکٹریوں پر مشتمل ہیں تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ان تینوں اقسام کی کیٹیگری میں شمار ہونے والی فیکٹریوں سے متعلق کوئی سروے نہیں ہے کہ کون سی فیکٹریاں صنعتی فضلہ بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں پھینک رہی ہیں۔


سماعت کے دوران رحمان ذیشان ، مرزا محمد حسنین اور وقار حسین نے اس بات کی حمایت کی کہ فیکٹریوں کی جانچ پڑتال کے لیے سروے ہونا چاہیے ، وہ اس سلسلے میں ادارہ تحفظ ماحولیات سے تعاون کے لیے تیار ہیں ، اس موقع پر کمیشن کے روبرو پیش نہ ہونے پر صدر لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور صدرکورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریل کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں آج کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

 

 

ایمز ٹی وی(نئی دہلی) بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہے۔


اگر خلاف ورزی ہوئی تو سرجیکل سٹرائیک کریں گے۔بھارتی آرمی چیف کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی اپنی ہی فوج میں بھوک کے بارے بیانات دیئے جارہے ہیں۔یاد رہے بھارتی فوجی تیج بہادر نے ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ہمیں ناقص کھانا دیا جاتا ہے اور ہم ایسا کھانا کھا کر سرحد پر کیسے لڑ سکتے ہیں۔


بھارتی فوج کیجانب سے سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اس سے پہلے بھی سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے جس کو پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔پاکستان آرمی کی طرف سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ اگر بھارت نے ایسی غلطی کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔