بدھ, 02 دسمبر 2020

مانیٹرنگ ڈیسک: کورونا وائرس کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ ایپ زوم کی مقبولیت میں اضافے کا سلسلہ تا حال جاری ہےاسکی آمدنی میں رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 4 گنا اضافے کے بعد 777.2 ملین ڈالرز ہو گئی ہے۔

سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں تجزیہ کاروں کی جانب سے توقع کی جا رہی تھی کہ زوم کی آمدنی میں 694 ملین ڈالرز اضافہ ہوگا لیکن حقیقت میں یہ اضافہ توقع سے زیادہ رہا۔

خیال رہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں متعدد دفاتر میں گھر سے کام کرنے کی پالیسی نافذ ہے جس کی وجہ سے صارفین کی جانب سے ویڈیو کالنگ ایپلیک یشنز کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ریاض: سعودی حکومت نے ملک کی چار بڑی جامعات کو آن لائن تدریس کی اجازت دینے کے بعد انہیں باقاعدہ طورپر آن لائن تدریس کے لائسنس جاری کردیئے۔

سعودی عرب میں نیشنل سینٹر برائے ای لرننگ نے اعلان کیا ہے کہ شاہ عبد العزیز یونیورسٹی ، شاہ فیصل یونیورسٹی ، القصیم یونیورسٹی اور شہزادی نورا بنت عبد الرحمن یونیورسٹی نے مرکز کے کنٹرول اور معیار کے مطابق ای لرننگ پروگرام فراہم کرنے کا لائسنس حاصل کیا ہے۔

حال ہی میں ان چاروں جامعات کو آن لائن تدریس کی اجازت دی گئی تھی اورانہوں‌نے آن لائن کلاسز شروع کردی ہیں۔شاہ عبد العزیز یونیورسٹی نے پروفیشنل سیلز ، مارکیٹنگ ، پبلک ایڈمنسٹریشن ، بینکنگ اور انشورنس میں ڈپلومہ کے لیے لائسنس حاصل کیا ہے۔

شاہ فیصل یونیورسٹی نے مارکیٹنگ اور سیلز ، بینکنگ ، انشورنس ، اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈپلوما کے لیے لائسنس حاصل کیا۔

القصیم یونیورسٹی نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، لاجسٹک اینڈ سپلائی چین مینجمنٹ ، اکاؤنٹنگ ، اور سیلز ڈپلوما میں آن لائن تدریس کا لائسنس حاصل کیا ہے جب کہ شہزادی نورا یونیورسٹی کو مارکیٹنگ ڈپلوما کے لیے لائسنس ایشو کیا گیا ہے۔

نیشنل سینٹر برائے ای لرننگ نے تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور مملکت کے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں ای ایجوکیشن اور ٹریننگ باڈیز اور پروگراموں کے لیے لائسنس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متعدد سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں ، تعلیمی اور مختلف سرکاری و نجی اداروں نے لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں اور انہیں ضروری لائسنس دینے سے متعلق طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔

کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے اعلامیہ کے مطابق بورڈ سےالحاق اسکولوں کوسہولت فراہم کرنےکے لئےنہم ودہم جماعت کے سالانہ امتحانات 2021 کےلئے انرولمنٹ ، رجسٹریشن اور پرمیشن فارم بغیر لیٹ فیس کے جمع کرانے کی تاریخ میں 15 دسمبر 2020 تک توسیع کردی گئی ہے۔

تمام اسکولوں کے سربراہان اور طلبہ جلد ہی انرولمنٹ، رجسٹریشن اور پرمیشن فارم جمع کرادیں۔16 دسمبر سے یہ فارم شیڈول کے مطابق لیٹ فیس کے ساتھ وصول کئے جائیں گے۔

اسلام آباد: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے میٹرک ، ایف اے اورآئی کام پروگرامزکی امتحانی مشقیں (اسائنمنٹس) جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا ہے۔شیڈول کے مطابق میٹرک، ایف اے اور آئی کام کے مکمل کریڈٹ کورسز کی پہلی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30۔نومبر، جبکہ دوسری اسائنمنٹ جمع کرانے کی تاریخ 20دسمبرہے ۔

پہلے اسائنمنٹ مقررہ تاریخ تک جمع نہ کرانے والے طلبہ کو مہلت دی گئی ہے، کہ وہ پہلی اسائنمنٹ اپنی دوسری اسائنمنٹ کے ساتھ20۔دسمبر تک جمع کراسکتے ہیں۔شیڈول کے مطابق تیسری اسائنمنٹ کی تاریخ 20۔جنوری اور چوتھی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 20۔فروری 2021ء مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح نصف کریڈٹ کورسز کی پہلی مشق جمع کرانے کی تاریخ 20دسمبر جبکہ دوسری مشق جمع کرانے کی آخری تاریخ 20فروری2021ء ہے۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی کے سمسٹر خزاں 2020کے میٹرک /ایف ا ے اور آئی کام کے داخلے کنفرم ہوچکے ہیں۔ داخلہ فارم ارسال کرنے والے امیدوار اپنے داخلے کی کنفرمیشن یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.aiou.edu.pk سے کرسکتے ہیں۔

مذکورہ پروگرامز میں داخل طلبہ کو کتب بھی ارسل کی جاچکی ہیں۔ سمسٹر خزاں 2020ء کے مطالعے کی مدت نومبر 2020ء تا فروری 2021ء ہے۔طلبہ کو مطالعے میں باقاعدگی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہی،ْ اُنہیں مطالعے کے دوران ہی مشقیں حل کرنے اور مقررہ تاریخوں تک ہر صورت اپنے مقررہ ٹیوٹرز کو دستی یا بذریعہ ڈاک ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں یونیورسٹی نے سمسٹر بہار 2020ء کے ایف اے پروگرام میں داخل طلباء کی مشقوں کے نمبرز بھی ویب سائٹ پر فراہم کردئیے ہیں ۔

چاند پر دو ریموٹ کنٹرول کاروں کے درمیان ریسنگ کا مقابلہ آئندہ سال ہوگا اور اگلے برس اکتوبر میں یہ گاڑیاں اسپیس ایکس کے فالکن نائن کے راکٹ کے ذریعے بھیجی جائے گی اور انہیں چاند پر اترنے والی پہلی نجی کمپنی کی تیارکردہ سواری کے اندر رکھا جائے گا ۔ان گاڑیوں کو کچھ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ چاند پر زمین کے چھٹے حصے کے برابر کم ثقل کے ماحول میں ایک مخصوص راہ پر دوڑیں گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گاڑیوں کو برطانوی ہائی اسکول کے طلباوطالبات نے ڈیزائن کیا ہے۔ کار کا ڈیزائن ابھی تک حتمی ہے اور منتخب ٹیم فرینک اسٹیفنسن کے ساتھ کام کرے گی جو مک لارن پی وی نامی مشہور کار ڈیزائن کرچکے ہیں۔ اس طرح دنیا کی پہلی گاڑی چاند کی سطح پر دوڑے گی۔


یہ مقابلہ مون مارک اسپیس نامی کمپنی نے منعقد کرایا ہے جو سائنسی اور تفریحی کمپنی ہے۔پہلے آٹھ ہفتے تک مختلف کالجوں کے طلباوطالبات کے درمیان مقابلے ہوں گے اور پانچ پانچ اراکین کی چھ ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔آخر میں بچ جانےوالی دو ٹیموں کی دو کاروں کے درمیان چاند پر دوڑ کا میلہ لگے گا۔ ان چیلنجوں میں ای گیمنگ، ڈرون ریسنگ اور خلائی تجارتی عمل (کمرشلائزیشن) کے مراحل بھی شامل ہیں۔

اس مقابلے کو موبائل آٹونومس پروسپیکٹنگ پلیٹ فارم (ایم اے پی پی) کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت چاند کو وسیع مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے اور نوجوان نسل میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کا شعور پہنچانا ہے۔ دونوں ریسنگ گاڑیوں کو نووا سی لینڈر(بڑی سواری) کے ذریعے چاند پر اتارا جائے گا جسے ہیوسٹن کی ایک کمپنی انٹیوٹو مشین نے تیار کیا ہے۔ اس سواری کو اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ سے چاند تک بھیجا جائے گا۔

مقابلے کے تحت ہر گاڑی کا وزن صرف ساڑھے پانچ پونڈ رکھا گیا ہے لیکن اسے چاند پر بھیجنا ایک بہت مہنگا نسخہ ہے کیونکہ چاند پر ایک پونڈ وزنی سامان بھیجنے پر 544,000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور اس طرح دو کاروں کو بھیجنے پر ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔

نووا سی لینڈر دنیا کی پہلی قمری سواری ہے جو چاند کے ایک ہموار مقام اوشینیئس پروسیلرم پر اترے گی۔ تاہم اس سے قبل دونوں قمری گاڑیوں کا مقابلہ ہیوسٹن میں ہوگا جہاں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

کراچی: جامعہ سندھ کے شعبہ سندھی کی جانب سے ڈاکٹر غلام علی الانا اور ڈاکٹر عابد لغاری کی یاد میں 2 دسمبر 2020ءکو تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا۔

جامعہ سندھ کے شعبہ سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے اپنے ایک اعلامیہ میں مطلع کیا ہے کہ حال ہی میں وفات پانے والے شعبے کے سابق اساتذہ، عالم و دانشور جامعہ سندھ کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام علی الانا اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار ”عابد“ لغاری کی یاد میں بروز بدھ 2 دسمبر 2020ءکو صبح گیارہ بجے تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا۔

جس میں شعبے کے اساتذہ ان کی شخصیت اور علمی ادبی خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔ ریفرنس کے دوران کورونا وائرس کے پیش نظر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا

کراچی: وفاقی اردویونیورسٹی نے داخلہ فارم برائے 2021 جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی ۔

جامعہ اردو کے ڈائریکٹر ایڈمیشن ڈاکٹر سید اخلاق حسین کے مطابق جامعہ اردو میں بیچلرزپروگرامز سال2021(صبح)کے داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ میں18دسمبر2020تک توسیع کردی گئی ہے۔

داخلے کے خواہشمند امیدوار داخلہ فارم جامعہ کی ویب سائٹ  www.fuuast.edu.pk  سے آن لائن پُر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایچ ای سی کی پالیسی کے تحت اس سال ایم اے، ایم ایس سی(دو سالہ پروگرام) میں داخلے نہیں دیئے جائیں گے

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے طلباوطالبات سے پڑھائی پر توجہ دینے کی درخواست کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر شفقت محمود نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوروناوائرس میں تیزی سےاضافے کے باعث ہمیں تعلیمی اداروں نہ چاہتے ہوئے بند کرنا پڑا کیونکہ یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔انہوں نےاپنے ٹوئیٹ میں پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری تمام طلباء سے گزارش ہے کہ وہ اس بار تعلیمی اداروں کی بندش کوچھٹی کی طرح استعمال نہ کریں بلکہ اپنے نصاب پر نظر ثانی کریں ، ہوم ورک کریں ، مختصر یہ کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ جاری رکھیں۔

کراچی: جامعہ کراچی نے بی کام پرائیوٹ سال دوئم و باہم سالانہ امتحانات برائے 2019 ء کے نتائج کا اعلان کردیا۔

ناظم امتحانات جامعہ کراچی ڈاکٹر سید ظفر حسین کے مطابق امتحانات میں 3250 طلبہ شریک ہوئے،69 طلبہ کو فرسٹ ڈویژن،466 کو سیکنڈ ڈویژن جبکہ ایک طالبعلم کو تھرڈ ڈویژن میں کامیاب قراردیا گیا۔

کامیابی کا تناسب 16.49 فیصد رہا۔

لاہور: محکمہ ویلفیئر کے پنجاب بھر کے اسکولوں میں انٹرن شپ پر رکھے 127 سینیئر اور جونیئر اساتذہ، کلرک اور اکاونٹنس سمیت دفتری اسٹاف کو نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرن شپ پر رکھے تمام اسٹاف کو 6،6 ماہ کی بنیاد پر رکھا جاتا تھا اور پھر 6 ماہ کے بعد ان کے کام کا دورانیہ اگلے چھ ماہ کےلئے بڑھا دیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ نومبر کے مہینے میں ان کے کام کا دورانیہ ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے محکمہ ویلفئیر حکام نے متعلقہ تمام اسٹاف کو مزید 6 ماہ کے لئے کام کرنے کا دورانیہ بڑھانے کی بجائے نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے

پنجاب بھر میں محکمہ ویلفیئر کے زیر اہتمام 65 اسکول چل رہے ہیں، محکمہ ویلفیئر کے اسکولوں میں گرشتہ 6 سال سے اپنی اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق سینیئر و جونیئر اساتذہ و دیگر اسٹاف انٹرن شپ کی بنیاد پر فرائض سرانجام دے رہا تھا جن کو ان میں سینیئر استاتذہ کی تعداد 40، جونیئر استاتذہ کی تعداد 78، پی ٹی آئی استاتذہ کی تعداد 2، عربی اساتذہ کی تعداد 2، کلرک و اسٹینو ٹائپس کی تعداد 4 اور اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کی تعداد ایک تھی۔

محکمہ ویلفیئر کی جانب سے سینیئر ٹیچر کو 16ہزار اور جونیئر ٹیچر کو 13،13 ہزار روپے فی کس تنخواہ کی مد میں دیا جارہا تھا اور اسی طرح اسٹینو اور اکاؤنٹنٹ کو بھی 13ہزار سے 16ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جارہی تھی۔

محکمہ ویلفیئر بورڈ حکام نے برطرف کئے گئے افراد کی جگہ محکمہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نیا اسٹاف رکھا لیا ہے اور جو اسٹاف پہلے سے فرائض سرانجام دے رہا تھا ان کو بھی محکمہ پبلک سروس کیمشن کے ذریعے شامل ہونے کے لئے کہا گیا تھا لیکن ان میں سے کسی بھی ملازم نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحان نہیں دیا۔

اس حوالے سے محکمہ ویلفیئر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہی کارروائی عمل میں لائی گی ہے اور قوانین کو مد نطر رکھا گیا ہے جبکہ اس ماہ میں ان کے کام کا دورانیہ بھی ختم ہور ہا تھا جس کو آئندہ کےلئے بڑھایا گیا جو کہ یہ اسٹاف بھی باخوبی جانتا ہے۔

 

Page 1 of 2759