جمعرات, 25 فروری 2021


شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹرخالدمحمودعراقی کااقلیتی طالبعلموں کےلئےبڑااعلان

کراچی:ڈاکٹر خالد عراقی نیشنل لابنگ ڈیلی گیشن برائے اقلیتی حقوق کے چاررکنی وفد نے گزشتہ روز جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے وائس سکریٹریٹ جامعہ کراچی میں ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں وفد نے شیخ الجامعہ سے درخواست کی کہ صوبے کی سب سے بڑی جامعہ کراچی میں اقلیتوں کے لئے دوفیصد کوٹہ مختص کیا جائے تاکہ اقلیتوں کو بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بہتر سے بہتر مواقع میسر آسکیں۔انہوں نے صوبہ سندھ میںپنجاب حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے لئے دوفیصد کوٹہ مختص کرنے کی خواہش کااظہارکیاہےانہوں نےمزیدکہاکہ اعلیٰ تعلیم کاحصول نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتی برادری کو اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

اس موقع پر ممبرسنڈیکیٹ جامعہ کراچی صاحبزادہ معظم قریشی،رجسٹرارجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سلیم شہزاداور مشیر امورطلبہ ڈاکٹر سید عاصم علی بھی موجود تھے۔

شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی روزاول سے ہی بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب تمام طلباوطالبات کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے
وفد کی کاوشوں کی سراہتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ اس مسئلے کو جلد ازجلد جامعہ کراچی کے متعلقہ فورم پر زیر بحث لایا جائے گااور کوشش کی جائے گی کہ 2021 ء کے داخلوں میں ان کے لئے نہ صرف کوٹہ مختص کیا جائے بلکہ ایسے اقلیتی طلباوطالبات جو نامساعد مالی حالات کی وجہ سے فیس دینے سے قاصر ہوں ان کے لئے اسکالر شپ یا مالی امداد کے لئے بھی کوششیں کی جائے گی تاکہ محض مالی مشکلات کی وجہ سے وہ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ہماری خواہش ہے کہ مذہبی اقلیتی براداری سے تعلق رکھنے والے ہونہار طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لئے اپنا مثبت اور کلیدی کرادار اداکریں اور وہ اپنی کمیونٹی اور ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکیں۔

ممبرسندھ اسمبلی اینتھونی نوید نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اقلیتی براداری کے لئے اسکالرشپ کی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ممبر سنڈیکیٹ جامعہ کراچی صاحبزادہ معظم قریشی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جامعہ کراچی اس حوالے سے تر جیحی بنیادوں پر اقدامات کرکے اقلیتی برادری کے طلباوطالبات کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment